منگلورو 11؍فروری (ایس او نیوز) ہیجماڈی اور گونڈمی ٹول ناکوں پر ٹیکس وصولی کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی ہے اور کل 13 فروری پیر کو صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک 12 گھنٹوں کا اُڈپی بند کا اعلان کیا گیا ہے۔
ٹول ناکوں پر ٹیکس وصولی کے خلاف عوامی احتجاج اور ٹریفک میں رکاوٹوں کے پیش نظر پولیس نے امتناعی احکامات کے تحت دفعہ144نافذ کردی تھی۔ لیکن ٹول ناکہ مخالف عوام پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔
احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولتیں فراہم کئے بغیر ہائی وے توسیعی منصوبے کے ذمہ داروں کو ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اس تعلق سے "ہیدداری جاگرتی سمیتی"نے دیگر تنظیموں اور مقامی عوام کے ساتھ مل کر 13؍فروری کواڈپی ضلع بند منانے کا اعلان کیا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ سمیتی کے ذمہ داران نے بتایا کہ بند کے دوران ایمبولینس اور دودھ کی گاڑیوں کے سوا کسی بھی دوسری سواری کو ہائی وے پر دوڑنے نہیں دیا جائے گا۔
اس موقع پر ضلع پنچایت رکن راگھویندرا کنچن نے رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے کے بارے میں کہا کہ ہم نے کم ازکم ایک بار رتو یہاں کے عوام سے مل کر ان کاموقف جاننے کی کوشش کریں۔ مگر انہوں نے ابھی تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ اس لئے وہ لوگ ایم پی سے بہت ہی مایوس ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف ضلع انتظامیہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس علاقے میں گزشتہ کچھ دنوں سے وقفے وقفے سے جاری احتجاجی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے امن و امان بنائے رکھنے کے لئے دفعہ 144نافذ کردی گئی ہے۔جس کے تحت چار سے زائد افراد کو ایک مقام پر جمع ہونا غیر قانونی ہوتا ہے۔یہ امتناعی احکامات ان ٹول پلازہ کے اطراف 2کیلو میٹر کی حدود میں 15؍فروری تک لاگو رہیں گے۔